شعر 1شعرِ غزل
آ رہی ہے میسر آج اک معجب سی خوشی
یوں لگتا ہے کہ کوئی یار اپنا آنے والا ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
آ رہی ہے میسر آج اک معجب سی خوشی
یوں لگتا ہے کہ کوئی یار اپنا آنے والا ہے
اک عرصہ رہے ہیں ہم جن کے منتظر
وہ سبھی غم بہا کر لے جانے والا ہے
اس کے قلب میں جو ہیں راز کی باتیں
سرگوشیوں سے ہمیں سب بتانے والا ہے
رہے غافل اک عرصہ ہم جس خواب میں
کرکے معانقہ وہ سپنے سے اٹھانے والا ہے
آ رہی ہے میسر آج اک معجب سی خوشی
یوں لگتا ہے کہ کوئی یار اپنا آنے والا ہے
اک عرصہ رہے ہیں ہم جن کے منتظر
وہ سبھی غم بہا کر لے جانے والا ہے
اس کے قلب میں جو ہیں راز کی باتیں
سرگوشیوں سے ہمیں سب بتانے والا ہے
رہے غافل اک عرصہ ہم جس خواب میں
کرکے معانقہ وہ سپنے سے اٹھانے والا ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ