تیری نظروں سے گرا ہوں بڑی چوٹ لگی ہے
تیری ذہنی گہرائیوں میں بڑا زخمی پڑا ہوں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تیری نظروں سے گرا ہوں بڑی چوٹ لگی ہے
تیری ذہنی گہرائیوں میں بڑا زخمی پڑا ہوں
میری غلطی ناقابلِ معافی ہے یہ تو مانا
یقین مانو اپنے کیے پر میں شرمندہ بڑا ہوں
جس وجہ سے میں تیری نظروں سے گرا تھا
یقین مانو میرے دلبر اسی رستے پر کھڑا ہوں
آجاؤ نہ خدارا اب میں منتظر ہوں تمہارا
علی نہ رویا کبھی جو تیری خاطر رو پڑا ہوں۔
تیری نظروں سے گرا ہوں بڑی چوٹ لگی ہے
تیری ذہنی گہرائیوں میں بڑا زخمی پڑا ہوں
میری غلطی ناقابلِ معافی ہے یہ تو مانا
یقین مانو اپنے کیے پر میں شرمندہ بڑا ہوں
جس وجہ سے میں تیری نظروں سے گرا تھا
یقین مانو میرے دلبر اسی رستے پر کھڑا ہوں
آجاؤ نہ خدارا اب میں منتظر ہوں تمہارا
علی نہ رویا کبھی جو تیری خاطر رو پڑا ہوں۔

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ