نہیں آؤ گے تم لوٹ کے ہمیں معلوم تھا میرے دوست
ہماری صحبت سے اٹھ کر تمہارا جانا ہی کچھ ایسا تھا

اردو شاعری اور فکری محفوظات
نہیں آؤ گے تم لوٹ کے ہمیں معلوم تھا میرے دوست
ہماری صحبت سے اٹھ کر تمہارا جانا ہی کچھ ایسا تھا
جسے کہا آپ نے فیض اٹھا لے کچھ وقت ہماری صحبت سے
ہم نے کہا کہ تو بھی چلا جا اس کا مسکرانا ہی کچھ ایسا تھا
جس نے مہلت لی کچھ وقت تمہاری صحبت کی ہم سے
ہم نہ روک سکے اس کو اس کا بہانہ ہی کچھ ایسا تھا
بہت بے زار ہوا تھا میں اس دن دوستوں کی بے رخی سے
یہ بات ہے ماضی کی وہ زمانہ ہی کچھ ایسا تھا
نہیں آؤ گے تم لوٹ کے ہمیں معلوم تھا میرے دوست
ہماری صحبت سے اٹھ کر تمہارا جانا ہی کچھ ایسا تھا
جسے کہا آپ نے فیض اٹھا لے کچھ وقت ہماری صحبت سے
ہم نے کہا کہ تو بھی چلا جا اس کا مسکرانا ہی کچھ ایسا تھا
جس نے مہلت لی کچھ وقت تمہاری صحبت کی ہم سے
ہم نہ روک سکے اس کو اس کا بہانہ ہی کچھ ایسا تھا
بہت بے زار ہوا تھا میں اس دن دوستوں کی بے رخی سے
یہ بات ہے ماضی کی وہ زمانہ ہی کچھ ایسا تھا

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ