محبت و عشق میں نہیں فرصت اب قلبِ مجرم کو
شاید اسی لیے شاعری سے دھیان بھٹکتا جا رہا ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
محبت و عشق میں نہیں فرصت اب قلبِ مجرم کو
شاید اسی لیے شاعری سے دھیان بھٹکتا جا رہا ہے
لیکن اس دیوان میں پڑی ہیں اغزال آنسوؤں کی طرح
جنہیں دیکھ کر بجھا ہوا شعلہِ عشق بھڑکتا جا رہا ہے
محبوب کے ہجر میں لکھی زیرِ ستم وہ غزلیں پڑھ کر
نہیں قابو میں آتا دل بے ساختہ دھڑکتا جا رہا ہے
نہ محسوس کر سکے ظالم بے وفا اس عاشق پر طاری کیفیت کو
ہمارے الفاظ بن گئے ہر ایک کی زبان کی زینت
جس سے بے وفاؤں کا دروازہ کھٹکتا جا رہا ہے
محبت و عشق میں نہیں فرصت اب قلبِ مجرم کو
شاید اسی لیے شاعری سے دھیان بھٹکتا جا رہا ہے
لیکن اس دیوان میں پڑی ہیں اغزال آنسوؤں کی طرح
جنہیں دیکھ کر بجھا ہوا شعلہِ عشق بھڑکتا جا رہا ہے
محبوب کے ہجر میں لکھی زیرِ ستم وہ غزلیں پڑھ کر
نہیں قابو میں آتا دل بے ساختہ دھڑکتا جا رہا ہے
نہ محسوس کر سکے ظالم بے وفا اس عاشق پر طاری کیفیت کو
ہمارے الفاظ بن گئے ہر ایک کی زبان کی زینت
جس سے بے وفاؤں کا دروازہ کھٹکتا جا رہا ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ