(قلم توڑ دیا)
جس قلم سے لکھا تھا نام تیرا وہ قلم ہی ہم نے توڑ دیا

اردو شاعری اور فکری محفوظات
(قلم توڑ دیا)
جس قلم سے لکھا تھا نام تیرا وہ قلم ہی ہم نے توڑ دیا
جس رستہ سے وہ گزرتی تھی اس پر چلنا بھی چھوڑ دیا
بعد میں اس کی یادوں نے دکھی آنکھوں کی فریادوں نے
بڑا غضب کیا میرے خوابوں نے درد دیا اس کی یادوں نے
اس کی ان پرانی آوازوں نے سب سے پہلے کہے الفاظوں
دل نے دل کو سراہ دیا عشق میں جیتے اعزازوں نے
ایسے مجھ پر ستم کیا میرے ہر عضو پر ظلم کیا
پھر بعد میں اک راز سے اک خط تھا اس نے جھاڑ دیا
میں نے آنسوؤں کو پونچھ کر اسے نہ پڑھا بلکہ پھاڑ دیا
اور وہ جو قلم تھا ہم نے توڑ دیا
پھٹے رقعے کے ساتھ ہی موڑ دیا
(قلم توڑ دیا)
جس قلم سے لکھا تھا نام تیرا وہ قلم ہی ہم نے توڑ دیا
جس رستہ سے وہ گزرتی تھی اس پر چلنا بھی چھوڑ دیا
بعد میں اس کی یادوں نے دکھی آنکھوں کی فریادوں نے
بڑا غضب کیا میرے خوابوں نے درد دیا اس کی یادوں نے
اس کی ان پرانی آوازوں نے سب سے پہلے کہے الفاظوں
دل نے دل کو سراہ دیا عشق میں جیتے اعزازوں نے
ایسے مجھ پر ستم کیا میرے ہر عضو پر ظلم کیا
پھر بعد میں اک راز سے اک خط تھا اس نے جھاڑ دیا
میں نے آنسوؤں کو پونچھ کر اسے نہ پڑھا بلکہ پھاڑ دیا
اور وہ جو قلم تھا ہم نے توڑ دیا
پھٹے رقعے کے ساتھ ہی موڑ دیا

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ