(دوست کی طلب)
تھی بچپن سے ہی اک ایسے دوست کی طلب

اردو شاعری اور فکری محفوظات
(دوست کی طلب)
تھی بچپن سے ہی اک ایسے دوست کی طلب
علی محب ہو اگر تو ہو قید اس کا بھی قلب
وہ قابض و غالب میری قلب و جان پر
جب بھی چاہے وہ روح میری کرلے سلب
ہوں مطیع میں اور قلب میرے قلب سے
ملحوظِ خاطر رکھے تھوڑا سا وہ بھی ادب
مخلص تھا مخلص ہوں مخلص ہی رہوں گا
ہو وہ بھی ایسا با وقار، قلبِ حبیب ہو باوفا
کروں خطا وہ دے سزا، میری ہر رمز کا ہو اسے پتہ
غیرت سے لبریز ہو جس کا قلب وہی ہے وہ با حیا
(دوست کی طلب)
تھی بچپن سے ہی اک ایسے دوست کی طلب
علی محب ہو اگر تو ہو قید اس کا بھی قلب
وہ قابض و غالب میری قلب و جان پر
جب بھی چاہے وہ روح میری کرلے سلب
ہوں مطیع میں اور قلب میرے قلب سے
ملحوظِ خاطر رکھے تھوڑا سا وہ بھی ادب
مخلص تھا مخلص ہوں مخلص ہی رہوں گا
ہو وہ بھی ایسا با وقار، قلبِ حبیب ہو باوفا
کروں خطا وہ دے سزا، میری ہر رمز کا ہو اسے پتہ
غیرت سے لبریز ہو جس کا قلب وہی ہے وہ با حیا

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ